تعارف

(آج کے ترقی یافتہ دور میں جب انسان ستاروں پر کمند ڈال رہا ہے آج بھی ایک تاریک گوشہ ایسا ہے جہاں تک انسانی رسائی ممکن نہیں ہوسکی وہ ہیں خون کی بیماریاں) جیسے بلڈ کینسر ، ایڈز ،ہپاٹائٹس سی اور اب رہی سہی کسر کانگو اور ڈینگی وائرس نے پوری کردی ہے انسان شکست خوردہ ذہنیت لے کر ریلیوں کی شکل میں مایو س نظر آتا ہے میں مایوسی کو گناہ سمجھتے ہوئے آگے بڑھا اور ریسرچ شروع کردی میری آس و بیم کا ٹمٹماتا ہوا دیا نامساعد حالات کی تند و تیزہواؤں سے ٹکراتا ہوا ترقی کی منزلین طے کرتا رہا رب العزت نے میری محنت کو جلا بحشی اور میں نے خون اور دل کی بیماریوں کا علاج دریافت کر دیا میں تقریباً بارہ(17)سال سے یہ علاج کررہا ہوں ہزار وں مریض استفادہ حاصل کرچکے ہیں نہ صرف پاکستان سے بلکہ دنیا بھر سے مریض آرہے ہیں اور صحت یابی کی شرع بھی حیران کن ہے حضور پاک ﷺ کی حدیث مبارک ہے کہ قیامت کی نزدیک ایسی بیماریاں جنم لیں گی جس کا علاج ممکن نہیں ہوگاان کا تعلق خون سے ہے اور خون کے اند ر ہی روح دوڑتی ہے جب انسان ختم ہوجاتا ہے تو صرف خون خشک ہو جاتا ہے باقی تو ویسے ہی پڑا ہوتا ہے یورپ جسم کا علاج کرتا ہے روح سے پھر مرض جسم میں آ جاتی ہے حضرت عیسیؑ ہاتھ پھیرتے تو شفاء ہوجاتی لیکن یہ ان کا معجزہ تھا معجزے کی لہریں آب دنیا سے ناپید ہوچکی ہیں اب اسے دوبارہ دہرایا نہیں جاسکتا دوسری چیز کرامت ہے کرامت اگر ایک مرتبہ ظاہر ہوچکی ہے تو دوبارہ صاحب کرامت کو بھی یقین نہیں ہوتا کہ وہ دوبارہ ظاہر ہوگی کہ نہیں ،موسی ؑ جب بھی عصاپھنکتے تو سانپ بن جات لیکن کرامت میں یہ چیز نہیں پائی جاتی معجزہ جن لہروں سے معرض وجو د میں آتا تھا وہ دنیا سے خارج کر دی گئی ہے لیکن کرامت کی لہریں اس دنیا میں موجود ہے اور جب چاہیں استعمال کریں حضرب خالد بن ولیدؓ اخبا دین میں زہر پی لیا تھا لو گ ان کی طر ف دیکھتے کہ ابھی یہ موت کے منہ میں چلے جائیں گے لیکن خالد بن ولیدؓ نے فرمایا ہم زہر سے نہیں مرتے ہم اللہ تعالی کا ذکر کرتے ہیں اس کامطلب یہ ہو ا کہ اللہ تعالی کے ذکرسے جو لہریں پید ا ہوتی ہے وہ خون کے وائرس کو کنٹرول کرلیتی ہیں اس بات کامیں نے ریسرچ کی اور لہروں کو کنٹرول کرنے کے لئے جدو جہد کی رب العزت نے مجھے کامیابی دی علاج کا طریقہ یہ ہے کہ مریض کو استخارہ کرکے کچھ اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام بتاتا ہوں جب وہ پڑھتا ہے تو اس سے جو لہریں پیدا ہوتی ہے میں وہ مریض کے ارد گرد لاتا ہومریض کے ساتھ اس کے دو لواحقین خونی راشتہ دار بھی پڑھتے ہیں اللہ تعالی نے اس کائنات انسانی عمل کے نعم البدل پر رکھا ہے۔ہر بیج کے پاس فرشتہ نہیں جاتا اللہ تعالی نے ایسی لہریں پید اکی ہے جن میں زندگی ہے یہ بیماریاں ہمارے عمل کا ثمر ہے اس کا صرف علاج اللہ کے ذکر میں ہے انسانیت اسی طرح تڑپتی رہے گی جب تک اعمال درست نہیں ہوتے ایلو پتھک کے علاج کی شرع26%فیصد ہے جب کہ علاج اُسے کہتے ہیں جس سے 55%فیصد مریض ٹھیک ہوجائیں میرے پاس مریض آتا ہے میں اسے قرآنی آیات دے دیتاہوں وہ جا کر علاج شروع کردیتاہے میں چاردن بعد اُسے اللہ کے صفاتی نام بتا دیتا ہون جب مریض ان صفاتی نام کا ذکر گیارہ دن کرتا ہے تو گیارویں دن میرا مریض سے رابطہ ہوجاتا ہے اور میں اس کا علاج شروع کردیتا ہے مریض کی دوری علاج میں روکاوٹ نہیں بنتی۔