روحانی شفایابی

دنیا میں ترقی کے ساتھ نت نئی بیماریاں بھی پیدا ہو رہی ہے اور ان بیماریوں کا علاج بھی اس تیزی سے دریافت ہو رہا ہے دنیا میں اس وقت ایک ایسا معالج بھی موجود ہے ۔َ

اسمائے حسنیٰ اور قرآنی آیات کی لہروں کے ذریعے لا علاج مرض ٹھیک کر سکتا ہوں(معروف روحانی معالج محمد اشرف کی گفتگو)

قرآ ن میں ہر مرض کا علاج موجود ہے دنیا بھر میں لوگ میرے کئے ہوئے روحانی علاج سے شفایاب ہو رہے ہیں۔

حاجی محمد اشرف کون ہے؟انھیں یہ سب کچھ کیسے عطا ہوا؟ کس بزرگ سے لاعلاج بیماریوں کی شفا ء کا اذن حاصل ہوا ؟ یہ سوال وہ ہیں جو ہر بند ے کی زبان پر آتے ہیں۔جسے حاجی صاحب کے بارے میں تھوڑا بہت معلوم ہے ۔تاہم حاجی صاحب سے مل کر ایک ہی نظر میں سب کچھ واضح ہو جاتا ہے وہ ایک ایسے باکمال بزرگ ہے جن کے نزدیک جاتے ہی نہ صرف یہ کہ دل منور ہو جاتا ہے بلکہ سب کچھ روشن روشن لگنے لگتا ہے حاجی محمد اشرف صاحب میں موت کے منہ میں جاتے ہوئے بہت سے افراد کو زندگی کی نئی راہیں دکھائیں بلکہ بہت سے لوگوں کو راہ راست پر لانے میں ان کی مدد فرمائی،وہ چاہتے ہیں۔کہ مشرق مغرب ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اُٹھائیں،ان کی بس ایک ہی آرزو ہے کہ میرا نور بصیرت عام کر دے۔

خداوند تعالیٰ نے انسان کو دنیا میں نائب بنا کر بھیجا ہے اور اس مقام کی اہلیت ثابت کرنے کے لئے رب ذوالجلال نے کچھ حدود و قیود اور تقاضے بھی مقرر کر دیے ہیں اور جب انسان ان منزلوں کو طے کر لیتا ہے تو صحیح معنوں میں نائب اللہ قرار پاتا ہے ۔ حاجی محمد اشرف صاحب بھی ایک ایسا ہی معتبر نام ہے جنہوں نے ان تقاضوں کو پورا کرنے کی صدق دلانہ سعی جمیل کی ہے اور کامیاب ہوئے ۔ حاجی محمد اشرف ربع صدی قبل پاکستانی صنعت پنکھا سازی میں ایک معتبر اور شاندار نام رہا ہے ۔ پھر عارضہ قلب سے والد کی وفات نے ان کی دنیا بدل دی ۔ لاکھوں روپے کا کاروبار چھوڑ چھاڑ کر شفاء بالقرآن کی طرف راغب ہوئے ۔سالہا سال کی تحقیق اور تلاش کے بعدانہیں صحت کی قرآنی لہروں کے ذریعے علاج اور شفا ء کا وہ ان دیکھا اور انوکھا نظام دستیاب ہوا جس پر عقل انسانی آج دنگ ہے ۔ اب کینسر ’ایڈز‘ ہیپاٹائٹس اے بی سی اور دل کا بڑھ جانا یا دل کا کچھ حصہ Damageہوجائے یا دل کے اندر کی شریانیں بند ہوں جیسی انتہائی مہلک اور لا علاج بیماریوں کا کامل علاج کر رہے ہیں ان کی اس الہامی طریقہ علاج کی بے مثال خوبی یہ ہے کہ مریض شفایابی کے بعد اصلاح انسانی کا نمونہ بن جاتا ہے اور ہمیشہ اللہ رب العزت کی رحمتوں کے سائے میں زندگی گزارتا ہے اور مریض دنیا کے کسی بھی حصے میں بھی ہو یہ دوری علاج کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنتی ۔ آج وہ شہرت کی بلندیوں پر ہیں اس کا سلسلہ اندرون ملک ہی نہیں بلکہ بیرون ملک بھی ہے ۔ ہم نے حاجی محمد اشر ف صاحب سے ان کی اس انتھک محنت اور اس کے ثمرات و طریقہ علاج کے بارے میں انٹرویو کیا ہے جو عوام الناس کی فلاح و بہبود کے پیش نظر قارئین کی نذر ہے ۔

سوال: حاجی صاحب آپ کے متعلق مشہور ہے کہ آپ انسانی خون سے متعلق بلڈ کینسر ‘ایڈز‘ ہیپاٹائٹس اے بی سی اور بلڈ الرجی جیسے پیچیدہ بیماریوں کا علاج کرتے ہیں،شفاء یابی کی شرح بھی حیران کن ہے ،قدرت نے آپ کو شفاء کاملہ کا ہنر بھی عطاء کیا ہے اس بے مثال اور حیرت انگیز نظام شفاء تک آپ کی رسائی کیسے ممکن ہوئی؟۔
جواب: میرے والد صاحب پر دل کا حملہ ہوا میرے ایک کزن بھی کینسر جیسی انتہائی مہلک مرض کا شکار ہوئے ۔جب والد صاحب پر تیسر ااٹیک ہوا تو دار فانی سے پردہ کر گئے تو میں نے سوچا کہ دوائیوں سے انسانی زندگی نہیں بچ سکتی ، کلام الہی کے ذریعے سے ہی شفاء کاملہ ممکن ہو سکتی ہے ۔ اس تجسس نے مجھے شفاء بالقرآن کی طرف راغب کیا اور یوں قرآن پر میں نے ریسرچ کر دی، جوں جوں سنجیدگی تحقیق آگے بڑھی میں نے محسوس کیا کہ میرے اندر ایک ایسی قوت بیدار ہو رہی ہے جو میرے دعوے کو سچا ثابت کر سکتی ہے میں نے اس کا عملی مظاہرہ یوں کیا کہ متحدہ عرب امارات میں قیام کے دوران ایک عربی نے ربڑ کا دل لگوایا، ادھر شاہ خالد نے بھی آپریشن کرایا، شاہ خالد پانچ سال کے بعد فوت ہوگئے اور وہ مریض پندرہ سال بعد کسی دوسری بیماری سے فوت ہوا، میں نے ریسرچ کی تمام فوت سے علاج کیا ، اللہ تعالیٰ نے مجھے کامیابی دی اور میرا حوصلہ اور بڑھا ، اس دوران ذاتی استخارے کے باعث مجھے وہ شفاء بخش آیات مل گئیں جس کے ذریعے میں لہریں پیدا کر کے علاج کرتا ہوں۔

سوال: آپ اس انوکھے طریقے کی وضاحت کیسے کریں گے؟
جواب: اللہ تعالیٰ نے نظام قدرت مخصوص لہروں کی سپر د کر رکھا ہے جیسے کوئی چیز خواہ وہ کتنی ہی طاقتورکیوں نے ہو بھنور میں پھنس جائے تو اس وقت تک گرداب سے نجات نہیں پاسکتی جب تک کہ کوئی تیسری اور زیادہ طاقتور چیز نجات دلانے کیلئے ومل پیرا نہ ہو جائے ، یہی وقت بخش لہریں مریض کو بیماری کے بھنور سے نجات دلا سکتی ہے لہروں کے ذریعے چین میں علاج کیا جاتا ہے ، عیسائی بائبل اور یہودی تورات کے ذریعے لہریں پیدا کر کے علاج کر تے ہیں، ہندوں گلاسوں میں رنگ ڈال کر دھوپ میں رکھ لہریں لیتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے یورپ سے آکر ایک خاتون اسلام آباد میں علاج کراتی رہی ہے اس کے متعلق شورش ملک صاحب نے جنگ اخبار میں ایک طویل انٹرویو شائع کیا تھا۔ امریکہ میں ایک روحانی معالج بینی سہم لہروں کے علاج میں بڑا مشہو ر ہے ۔ میں نے پہلے ریسرچ کر کے قرآن پاک سے لہریں پیدا کر نے کی کوشش کی لیکن قرآنی لہریں اس قدرشدید ہوئی ہیں کہ ان پر کنٹرول ناممکن ہوتا ہے اب اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں سے یہ لہریں پیدا کرتاہوں، صبح گیارہ بجے تک ان لہروں کا رخ بدلتا رہتا ہے ،گیارہ بجے تک میں پڑھتا رہتا ہوں،کسی سے ملاقات نہیں کر سکتا ، پھر ان پر دسترس حاصل کر کے بیٹھ جاتا ہوں اور گیارہ بجے ایک بجے تک مریض دیکھتا ہوں، بلڈ کی وہ مرضیں جن کا پتہ نہیں چلتا میں مریضوں کو بتاتا جاتا ہوں اور دیکھنے میں کوئی فیس نہیں ہوتی ، جو لو گ علاج کرائیں ان سے کینسر، ایڈز،جگر کی چند ہزار فیس وصول کی جاتی ہے ۔ جو غریب اور نادر مریض ہیں وہ زکواۃ کمیٹی کا فارم دے کر فری علاج کرائیں، پہلے فارم درج کر کے تاریخ دی جاتی ہے اس تاریخ کے آنے پر بالکل فری علاج کیا جاتا ہے ۔

سوال : حاجی صاحب ہمیں لہروں کے متعلق بتائیں کہ یہ کیا چیز ہوتی ہے ؟
جواب: ’’غلام جیلانی برق‘‘ نے ’’من کی دنیا‘‘ میں ان لہروں کے کمالا ت کا واضح ذکر کیا ہے یورپ کہتا کہ جہاں انسانی اعمال جہاں پر دنیا کی حد ختم ہوتی ہے وہاں ایک جگہ جسے وہ آسٹر ورلڈ کا نام دیتے ہیں اس سے ٹکرا کر واپس دنیا میں آتے ہیں وہی لہریں بن جاتی ہیں،ہم کہتے ہیں خدا نے اس دنیا کو چلا کر انسانی عمل سے وابستہ کر سیا ہے کہ اسے اپنے عمل سے جلاؤ،انسان کے اچھے اعمال لطیف اور برے اعمال نجس لہریں پیدا کر تے ہیں جو کام وقت ضائع کریں وہاں سے منحوس لہریں نکلتی ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایاکہ قیامت کے نزدیک جب فحاشی پھیل جائے گی تو ایسی بیماریاں ظاہر ہوں گی جس کا علاج ممکن نہیں ہو سکے گا ، اس کا مطلب ہے کہ فحاشی ایسی لہریں پیدا کرتی ہیں جو بیماریاں پیدا کر تی ہیں۔ حضرت ؑ نے اپنے حواریوں کا مخاطب کرتے ہوئے کہا اگر صحت چاہتے ہو تو نیک اعمال کی طرف راغب ہو جاؤ ، انہوں نے تاکید کی کہ نیکی ہی صحت مند جسم کی ضمانت دے سکتی ہے ۔ حضور ﷺ نے فرمایاکہ الحمد شریف میں شفاء ہے الحمد شریف پڑھنے سے ایسی لہریں پیدا ہوتی ہیں۔ جس میں شفاء ہوتی ہے ۔ رب العزت فرماتے ہیں کہ جب تم نے اپنے اعمال سے اس دنیا کو اندھیر کر دیا تو رب العزت نے انبیاء کرام کو بھیجا انہوں نے واحدنیت کی شمع جلا کر اس دنیا کوپھر منور کر دیا ۔اس کا مطلب ہے کہ اللہ کے ذکر سے تارئک لہریں روشنی میں بدل جاتی ہیں۔ حضور ﷺ نے سب سے پہلے صحابہ کرامؓ کو خدا کا ذکر دیا انہوں نے کلمہ توحید کثرت سے پڑھا ، جس کی برکت سے ایسی لہریں پیدا ہوئیں جس سے جہالت کے اندھیرے دور ہوگئے ۔ جنت میں سب لوگ خدا کا ذکر کرتے ہونگے ،فرشتے اور درخت تک ذکرمیں شریک ہوں گے اور ذکر کی بدولت جنت کا سکون دوبالا ہو جائے گا او ر حقیقت میں خدا کے ذکر کی وجہ سے بیماری نہیں لہذا دنیا اصل کی نقل ہے ۔ اگر دنیا میں رب العزت کا ذکر کیا جائے تو ایسی لہریں پیدا ہوتیں ہیں۔ جو مرض کو دور کر دیتی ہے ۔ یہی استخارہ کر کے میں خدا کا ذکر دیتا ہوں خدا نے فرما دیا ہے کہ جب تم میرا ذکر کروگے تو میں تمہیں سکون قلب دوں گا، اگر آپ مرض کو ذہن میں لے کر پڑھیں گے تو آپ کو سکون قلب اس وقت ہوگا۔ جب آپ کا مرض دور ہوگااور رب العزت قرآن پاک میں فرما چکے ہیں لہذا اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا ۔ صر ف وہ چند انسان کے لئے موت مقدر ہو چکی ہے ۔ اسی بناء پر میں کہتا ہوں کہ اگر کسی کو میرے علاج سے آرام نہ آئے اسے کہیں سے آرام آجائے تو آکر اپنے پیسے واپس لے جائے ، ہم نے خدا کو چھوڑ دیا خدا نے ہماری مدد بند کردی ۔آج بھی خدا کا ذکر تمہاری تمام کمیوں کا مداوا کرنے کیلئے تیار ہے رب العزت کی طر ف پلٹ کر دیکھویہ دنیا جنت بن جائے گی ۔ پاکستان کے لوگ معجزے اور کرامات کے علاوہ اور چیز پر غور و فکر نہیں کرتے ، معجزے اور کرامات میں بنیادی فرق یہ ہے کہ معجزہ نبی سے ظہو رپذیر ہوتا ہے اور وہ لازمی ظاہر ہو کر رہتا ہے ، مثلاً موسی ؑ کا معجزہ تھا کہ وہ جب بھی اپنا عصا پھینکتے تو وہ سانپ بن جاتا ، ایسا ممکن نہیں کہ وہ اعصاء پھینکے اور وہ سانپ نہ بنے لیکن کرامات میں ایسا نہیں، ولی کو خود پہ یقین نہیں ہوتا کہ یہ کرامات ظاہر ہوجائے گی، اگر ایک دفعہ ظاہر ہوگئی تو دوسری دفعہ ہوگی کہ نہیں ، کرامت کے ظہور کی لہریں فضاء میں موجود ہیں،اگر ایک واقعہ ہوا تو وہ دوسری دفعہ بھی ظاہر ہو سکتا ہے ۔ مثلاًحضرت عمرؓ نے کہا ’’یا ساریہ ‘‘ پہاڑ کی طرف دیکھاان کی آوازسینکڑوں میل دور چلی گئی ، وہ آواز آج بھی جا سکتی ہے ، اس کرہ ارض پر آج بھی لہریں بدرجہ اتم موجود ہیں اور یہ عمل دہرایا جا سکتا ہے صر ف اس شخص کی ضرورت ہے جو ان لہروں کو سمجھتا ہو جس سے آواز پہنچائی جا سکتی ہے ۔

سوال : کینسر ’ایڈز‘ہیپاٹائٹس اے بی سی اور دل کے امراض میں آپ کس حد تک کامیاب رہے ؟
جواب: میں نے یہ علاج بڑے بڑے سیاستدانوں سے لے کر غریب عوام تک کیا ہے ۔ 85%مریض خدا کی مہربانی سے ٹھیک ہوگئے ہیںیہاں ایک بات قابل ذکر ہے کہ میں تقریباً سات ہزار لوگوں کا علاج کیا ان میں سے تین ہزار کینسر کے مریض تھے ان تین ہزار میں سے آج کسی کا علاج کبھی آپس میں نہیں ملا ،دل کے تین چار واقعات ایسے ہیں کہ ان کا علاج مل گیا ہے ، کینسر کا علاج 123دن میں اور دل کا 90دن میں مکمل ہو جاتا ہے 41یوم کے بعد ایک دفعہ آنا پڑتا ہے مریض کے آنے کی ضرورت نہیں، عورتیں اپنے ملازموں کو بھیج کر گھر میں بیٹھ کر علاج کروائیں۔میں نے امریکہ کے ہسپتالوں میں کئی مریض ٹھیک کئے ہیں۔ خاص طور پر جب دل بڑھ جائے تو اس کا علاج سوائے میرے دنیا میں اور کوئی نہیں جانتا اور یہ میں آگے نہیں دے سکتا ۔ اگر دوں بھی انہیں لہریں نظر نہیں آسکتی میں دنیا کا چوتھا مسلمان ہوں، پانچواں میرے بعد سعودیہ میں پیدا ہوگا۔اس کے بعد یہ سلسلہ ختم ہو جائے گا۔ہیپاٹائٹس کا علاج بہت مہنگاہے دو لاکھ روپے کے انجکشن لگتے ہیں اور رزلٹ 26%سے زیادہ نہیں۔میرے مریض85%سے زیادہ ٹھیک ہو رہے ہیں جو پندرہ فیصد ہیں وہ بھی کوئی بیماری نہیں تمام کام کرتے ہیں صرف رپورٹ پازیٹو آتی ہے میرے خیال میں بعض انسانوں کے جسم میں ایسے جرمز ہوتے ہیں۔ جو خون صاف کرنے کیلئے ضروری ہوتے ہیں۔ وہ بھی پازیٹو آجاتے ہیں، جس مریض کامیں نے علاج کر دیا ہے ۔ وہ H.Cسے اس دنیا سے نہیں گیا پانی بننے سے پہلے میرا 100%رزلٹ ہے جن کے پیٹ میں پانی بھر جاتا ہے وہ 60%ٹھیک ہو گئے ہیں۔

سوال : آپ اپنے طریقہ علاج پر روشنی ڈالیں؟
جواب: میں سب سے پہلے مریض کا نام اور ا س کی والدہ کا نام دیکھتا ہوں کہ مریض کی نوعیت کیا ہے پھر مریض کو قرآنی آیات دیتا ہوں مریض گھر جا کر پڑھ کر پانی شروع کرتا ہے ۔ تو میں استخارہ کرتا ہوں اور چوتھے دن وہ اسمائے گرامی مریض کو پڑھنے کیلئے دیتا ہوں، جو مریض پڑھتا ہے تو صحت کی لہریں پیدا ہوتی ہیں جس سے میں مریض کا علاج کرتا ہوں۔ جب مریض سات دن پڑھ لیتا ہے تو لہریں اس قابل ہو جاتی ہے کہ علاج ممکن ہو سکے ، گیارھویں دن میں علاج شروع کرتا ہوں، گیارہ دن سے لے کر 41دن تک میں ہر روز مریض کی حالت چیک کر کے آگے علاج کرتا ہوں، مریض چاہے امریکہ کے جنگلوں میں ہو لیک کینسر، ایڈز،اور جگر کے مریض کیلئے دو آدمیوں کے نام اور والدہ کا نام لے کر انہیں بھی پڑھنے کیلئے دیتا ہوں، مریض کے ساتھ اُن کا خونی تعلق ہونا ضروری ہے ،بیوی کیلئے خاوند اور خاوند کے لئے بیوی پڑھ سکتی ہے ۔ 41دن مریض کیلئے بعد میں وہ دونوں اپنے مقصد کیلئے پڑھ سکتے ہیں۔ 41دن اگر مریض خود پڑھ لے تو دوسرے عزیزوں کو پڑھنے کی ضرورت نہیں رہتی ، اگر ایک مریض کیلئے 20آدمی پڑھنا چاہیں تو صحت کی لہریں پیدا کرنے کیلئے ان کی اسم بھی مختلف ہونگے ۔میں انسان کو وہ اسم بتاتا ہوں۔جس اسم سے انسان کا رب العزت سے براہ راست تعلق ہوتا ہے وہ اسم جب آدمی پڑھتا ہے تو اگر تین مہینے لگاتار پڑھے تو وہ نماز نہیں چھوڑ سکتا اس کے ارد گرد کا ماحول سازگار ہو جاتا ہے رزق کی فراوانی ہو جاتی ہے ، جائز حاجات نہیں رکتی ۔

سوال: حاجی صاحب انسان کو درپیش مشکلات ، مسائل اور مصیبتوں سے نجات دلانے کیلئے بھی آپ ان لہروں سے کوئی عمل کرسکتے ہیں؟
جواب: شروع شروع میں میں نے اس مقصد کیلئے لہروں کو استعمال کیا ، کئی شخصیات کی مدد کی لیکن خاطر خواہ پذیرائی نہیں ہوئی تو میں نے ان لہروں کو بیماریوں پر سیٹ کر لیا ہے اگر کوئی مسئلہ ہوا ور اس میں قوم کو اجتماعی فائدہ ہو تو میں دوبارہ کر سکتا ہوں۔ ویسے مریضوں کی خدمت میں مجھے بڑا لطف آتا ہے مجھے ایک تکلیف ہے کہ میں فرض نماز کے علاوہ کمرے سے باہر نہیں نکل سکتا ۔ صرف فجر کی نماز کے بعد تھوڑی سی سیر کی اجازت ہے وہ بھی ایک راستے پر جہاں سیر کے لئے جاتا ہوں راستہ بدل کر نہیں جا سکتا ہر روز اسی راستے سے جانا اور واپس آنا پڑتا ہے ۔ مسجد اور گھر علاوہ کسی طرف قدم اُٹھانے کی اجازت نہیں ہوتی ۔ ویسے میرا دل کرتا ہے میں قوم کے لئے کروں انسان اگر لہروں کو سمجھتا ہوں تو وہ کچھ بھی کر سکتا ، مجھے ایک ڈیپارٹمنٹ دے دیں میں ان ملازموں کیلئے کچھ پڑھنے کیلئے دوں گا۔تین ماہ سے لے کر ساڑھے پانچ ماہ کے درمیان ان کی کار کردگی بڑھ جائے گی وہ صر چلتے پھرتے وضو با وضو میرے لفظ پڑھیں تین مہینے کے بعد وہ لوگ نمازی بن جائے گے ان کے ارد گر د کا ماحول سازگار رہے گا وہ محسوس کریں گے کہ کوئی چیز ان کی مدد کر رہی ہے مجھے پولیس کا ایک شعبہ پورا دے دیں ایک تھانے پر گورنمنٹ آزمائش کرے پانچ ماہ کے اندر85%لوگ رشوت چھوڑ دیں گے کسی ایجنسی کے لوگ مجھے دیں اس عرصہ میں ان کی کارکردگی بڑھ جائے گی اور خاص طور پر اس قوم کے لئے صرف یہی ایک راستہ رہ گیا ہے ۔ گورنمنٹ مجھے اعتماد میں لیں اور میں ملک میں چالیس لاکھ انسانوں کو کچھ الفاظ پڑھنے کیلئے دیتا ہوں لمبا عرصہ نہیں پانچ ماہ میں رزلٹ سامنے آجائے گا۔ اچھی کار کر دگی کے بعد فضاء میں وہ لہریں درکار ہوتی ہے جو ان پالیسوں کو منطقی انجام تک پہنچاتی ہے اگر وہی نہ ہو تو رزلٹ 10%سے اوپر نہیں جاتا اس بات کو ذرا آسان طریقے سے بیان کر تا ہوں کہ چاہے کتنی ہی قیمتی بیج ہو وہ پتھریلی زمین میں نہیں اُگتا اس کیلئے زمین کا زرخیز ہونا ضروری ہے ہمارے لیڈرز زمین زرخیز کرنے پر توجہ نہیں دیتے بے نظیر صاحب کہتی تھی میرا افسر شاہی ساتھ نہیں دیتا نواز شریف صاحب کہتے ہیں میں پہلے دو سال کام نہ کر سکا اگلے دوسال دگنا کام کروں گاآپ ذرا سوچیں جن لہروں نے انھیں سنگل کام سے روکے رکھا وہ ڈبل کیسے کرنے دیں گے اور اگر ایسا ممکن بنانا ہے تو ماحول کو سازگار بنا کر پھر کام کرنا ہوگا۔ اب ایل ایف او کا جھگڑا ہے ہمارے لیڈر اس بارے میں کیوں نہیں سوچتے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے یہ اسمبلی کی لڑائی کو لیڈروں کی لڑوائی نہیںیہ وہ لہریں ہیں جو بنیادی طور پر عوام کے عمل سے پید ا ہوتی ہے اور جب وہ اپنے منطقی انجام تک پہنچتی ہیں تو ایسے حالت ناگزیر ہوتے ہیں انہیں اگر روکنا ہے معاشرہ میں روکیں سب سے بے چار پاکستانی وہ ہے جو اس انتظا ر میں بیٹھا ہے کہ کوئی لیڈر آئے گااور ہماری تقدیر بدلے گا حالانکہ وہ اس بات سے بے علم ہے کہ اس کے اعمال نے ایک ایسا لیڈر پیدا کرنا ہے جو ہماری رہنمائی کرے گا اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کہ قائد اعظم محمد علی جناح مسلم لیگ کی قربانیوں کا ثمرہ تھا ، بے لوث قربانیوں سے جو لہریں پیدا ہوئی ہین۔ انہو ں نے پاکستان بنایا آج قوم کہتی ہے خدا خود پاکستان کی حفاظت کریں خدا کوئی ہمارا چوکیدار نہیں اگر مسلمان کو کوئی ودیعت ہے تو یہ کہ اس کو آخرت میں بھی اجر ملے گا لیکن دنیاوی قاعدوں وضابطوں میں وہ تمام قوموں میں کوئی برتری نہیں رکھتا ۔ جب مصر فتح ہوا تو حضرت عمرؓ نے عیسائیوں سے پوچھا تم کیا کر رہے تھے وہ کہنے لگے ہم دو گروہ تھے ایک گروہ کہتا تھا کہ عیسائی کا پیشاب پاک ہے اور دوسرا کہتا تھا کہ پلید ہے اور آپ نے حملہ کر دیا ۔ آ پ نے مسلمانوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ تمہارا بھی سوائے عبدیت کے خدا سے کوئی رشتہ نہیں جب تم بھی غیر اہم مسائل میں پھنس جاؤگے تو آپس میں لڑنا شروع کر دو گے اور رب العزت تم پر کوئی قوم مسلط کر دے گا۔ ذرا سوچو پاکستانیو! کہیں تمہار ا وہ وقت تو نہیں آگیا تم لہروں کو نہیں سمجھتے تم ایک ایسی غار کے اندر جارہے ہو جس کے گرنے کے امکانا ت بڑھ رہے ہیں اور مست ہو جیسے ملک تمہارے آباؤ اجداد نے تمہیں دیا تھا ویسے تم اپنی اگلی پشت کو نہ دے سکے تو ہم بد دیانت ہیں اور امانت میں خیانت کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہو سکتا، حضورﷺکی حدیث مبارکہ ہے کہ رب العزت نے بہت سی قومیں صرف اس لئے تباہ و برباد کردیں کہ ان کے امیروں کے قانون کچھ اور تھے اور غریبوں کے قانون کچھ اور ، اور ناانصافی سے جو لہریں پیدا ہوتی ہے وہ قوموں کو برباد کر دیتی ہیں۔ ریشم کا کیڑا جب پھنس جاتا ہے تو فرشتہ اسے ذکر عطاء کر تا ہے جب وہ کرتا ہے تو ایسی لہریں پیدا ہوتی ہے جس میں نہ صرف آزادی ہوتی ہے بلکہ وہ مکمل کیڑ ا ہوتا ہے اس کے پر نکل آتے ہیں تم اس بات پر غور کر و اور آؤ مل کر خدا کے ذکر کا اہتمام کر یں ہماری مشکلات حل ہو جائیں گی اور دنیا کو جنت بنانے والا کام کر یں گے تو جنت بنے گی جنت کا سکون صرف اللہ رب العزت کے ذکر سے وابستہ ہے اور آخر میں اپنی قوم سے عرض کرنا چاہتا ہوں تنقید صر ف ان لوگوں کا حق ہے جس بعد میں مسئلے کا حل پیش کریں جس قوم کو تباہ کرنا ہواس میں بے جا تنقید ڈال دیں وہ خود بخود تباہی کے دہانے پر پہنچ جائیں گے ۔انسان کو خدا نے پیدا کیا ہے کہ اپنا محاسبہ کرے اور دوسروں کی اچھائیوں پر نظر رکھے کیونکہ تمھیں اپنی کمزوریوں کا پتہ چلتا رہے گا اور دوسروں اچھائیوں سے انہیں فائدہ میں ہوگا۔کائنات کا یہ دستور ہے کہ جس چیزتم اچھائی وابستہ کروگے وہاں سے تمہیں اچھی لہریں واپس ملیں گی ، ہم پولیس پر تنقید واپڈا پر تنقید حکومت پر تنقید اس سے جو لہریں نکلتی ہیں وہ قوم کو سست کر تی ہیں ہم سے جنرل نالج سمجھتے ہیں میر ی قوم صرف خاموش ہی ہو جائے بے جا تنقید نہ کرے تو اس سے عمل کی لہر یں بڑھ جائیں گی قوم میں صلح اور امن بڑھے گا جب تک نہ تھی اپنی خبر دیکھتے اوروں عیب و ہنر پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا ظفر اس آدمی انسان نہ جاننے گگا چاہیے وہ کتنا فہم و زکا جسے عیش میں یاد خد دا نہ رہا حضرت شبلی نے ایک حکیم سے کہا کہ مجھے گناہوں کا مرض ہے اگر حکیم صاحب اس کی دوا ہو تو مجھے عنایت کیجئے ادھر باتیں ہو رہی تھیں اور سامنے میدان میں ایک شخص تنکے چننے میں مصروف تھا اس نے سر اٹھا کر جو تم سے لگاتے ہیں وہ تنکے چنتے ہیں شبلی یہاں آؤ میں تمہیں اس مرض کی دعا بتاتا ہوں حیا کے پھول صبر و شکر کے پھل اجر و نیاز کی جڑ غم کی کونپل ، سچائی کے درخت پتے ، ادب کی چادر حسن اخلاق کی بیج یہ سب لے کر ریاضت ہاموں دستے میں کوٹھنا شروع کرو اور اشت پشیماں کا عرق ان میں روز ملاتے رہو ان سب کا دل کی دیگچی میں شوق کے چولہے پر پکاؤ جب پک کر تیار ہو جائے تو صفائے قلب کی صفائی میں چھان لینا اور شریں زبان کی شکر ملا کر محبت کی تیز آنچ دینا جس وقت تیار ہو کر اترے تو اس کو خوف خد ا کی ہو ا سے ٹھنڈی کر کے استعمال کرنا گناہوں کی بیماری سے افاقہ ہوگا۔ مولانا شبلی نے نگاہ اٹھا کر دیکھا تو دیوانہ غائب ہو چکا تھا۔ وہ جو بیچتے تھے دوائے دکان وہ اپنی دکان بڑھا گئے ۔