ھمارےبارےمیں

روحانی علاج ََِ
حاجی محمد اشرف ایک روحانی بھورے رنگ کے بالوں والے درمیانے عمر کا آدمی ہے۔ جو کہ اس بات کا نقاشی ؍تصویر کشی نہیں کرتے ہیں کہ اس کے امتیازی دنیاوی تعلیم یا انفرادیت ہیں۔ لیکن جب وہ روحانیت کی موضوع پر بات کرتے ہیں تو سننے والوں کو محظوظ کو کرسکتے ہیں ۔ یہ سکرائب ان سے انٹرویو کیلئے موزوں وقت کے لئے پاکستان آبزور کے لئے کئی دن تک کوشش کرتا رہا۔ چند دن پہلے جب وہ پاکستان ابزور کے ساتھ بات کررہا تھا ، سال کا گرم ترین دن تھا۔ یہ دوپہر کے چار بجے کے وقت گرم دن تھا جب وہ اپنے رہائش گاہ میں ، آئی ٹین میں موجود تھے۔
حاجی اشرف بنیادی طور پر گجرات سے تعلق رکھتے ہیں جہاں ان کا صنعتی یونٹ تھا جو کہ اب نظرانداز ہے۔ سالوں پہلے انہوں نے اس دنیاوی کاروبار میں دلچسپی ختم کردی تھی اوراب انہوں نے اپتا وقت ’’تلاش‘‘ کیلئے ، ہاں وہ کہتے ہیں ’’تلاش‘‘ کیلئے وقف کررہے ہیں۔ انہوں نے لوگو ں کا خونی کینسر ، ایڈز، یرقان ؛ اے، بی ،سی اور ڈی ، خونی الرجی امراض سے ڈھیر ہوجانا اور مرنا دیکھا تھا۔ انہوں نے محسوس کیا تھا کہ نارمل طبعی علاج کسی بھی طبعی نظام میں خطرناک ثابت ہوا ہے۔ ان کا یقین تھاکہ ان بیماریوں کا ضرور کوئی علاج ہوگا ۔ جلد ہی وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ علاج دوائیوں میں نہیں بلکہ روحانی علاج سے ہوسکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں ’’میں طبعی لیبارٹریوں سے مزین نہ تھا ، میں ان بیماریوں کی علاج کے لئے کسی دوائی تیار کرنے کی کوشش نہیں کررہاتھا جن کی پہلے ہی بہتات تھیں۔ میں اﷲ تعالیٰ کی صفاتی نام اﷲ سبحان اﷲ تعالیٰ کا تواتر کے ساتھ بہت دفعہ جتنا کہ میں کر سکتا تھا ، وردکرتا تھا ۔ خالق کائنات کے حمد و ثنا ء کی ورد کے درمیان ،وہ کہتے تھے کہ انہو ں نے لہریں دریافت کیں۔ لہریں جو انسان کی انحطاط پذیر صحت کو مہلک بیماریوں سے روکتا تھا۔ میں نے حاجی اشرف سے پوچھا کہ آپ بیماریوں کا علاج کرتے تھے تو کیسے انہوں نے لہروں کو قابو کیا۔ انہو ں نے کہا کہ یہ ایک روحانی عمل ہے ، ایک دفعہ باقاعد لہروں کی لمبائی کو مریض کے درمیان قائم کرلیا جاتا ہے، تو بیمای کی مقدار کا باآسانی پتہ چلایا جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ حساب کر تا ہے کہ علاج کے لئے کتنا عرصہ درکا رہے۔ جو کہ چند دن یا ہفتے لیکن یقینی طور پر لمبا عرصہ درکار نہ ہوگا۔
حاجی محمداشرف صاحب فرماتے ہیں، ’’میں نے بہت سے لوگوں کا، جو نامید اور مایوس ہوچکے تھے ،کامیابی کے ساتھ علاج کیا۔ انہوں نے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگوں کا نام لیا جن کا وہ علاج کرچکے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے طریقہ علاج سے وہ لوگ بھی مدد لے سکتے ہیں جو آنہیں سکتے اور بیرونی ممالک رہتے ہیں۔
وہ فرماتے ہیں ’’لہروں کیلئے فاصلے کوئی رکاوٹ نہیں ‘‘
انہوں نے کہا کہ وہ 1998میں اسلام آبادآئے ، اسی سال سے وہ روحانی علاج کررہے ہیں۔ وہ اس بات کی کوشش کررہے ہیں کہ لوگوں کو روحانی طاقت پر یقین آئے اور ان کو قائل کررہے ہیں کہ یہ بیماریاں لالچ میں ڈوبوؤں کا تعاقب کرتے ہیں۔
وہ مسلمانوں کی تاریخ کا ایک اچھا علم رکھتے ہیں۔ وہ روحانی طاقت کا روایت سے وضاحت کرتے ہیں: حضرت عمرؓ نے مسلم فو ج کے سپہ سلار کو ہدایت کی جب وہ سینکڑوں میلوں دور دشمنوں کا سامنا کرتے تھے۔ انہوں نے یہ الفاظ کہیے۔ اے سریا پہاڑ کی طور موڑ جاؤ۔ یہ پیغام سریا کو متقل ہوگیا ۔ یہ کہ روحانی طاقت کیا کرسکتا ہے جہاں مادی ذرائع ناکام ہوجاتے ہیں انہوں نے زور دیا ۔
حاجی محمد اشرف کہتے ہیں ، کہ اگر لوگ گناہ سے آزاد زندگی گزاریں تو وہ مہلک بیماریوں سے بچ سکتے ہیں اور ایک صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں۔ انہو ں اپنے علاج کے نظام میں پرہیز پر زور دیا۔ پرہیز کی اساس پرہیزگاری اور دوسرے انسانوں کی خدمت پرہے۔
انہوں نے ایک مثال جو کہ حضرت علیؓ نے قائم کی تھی کی طرف دیکھنے کا کہا ، جنہوں نے لمبے وقت تک نہ کچھ کھایا تھا اور جب انہوں نے کچھ کھایا تو کھردری سوکھی روٹی کھائی۔ ان کا مطلب تھا کہ سادہ خوراک اور اکثر کم خوراک کھانا چاہیے ۔ انہوں نے اس پر بات زور دیا کہ اپنے ساتھیوں کی خدمت کریں ۔ انہوں نے کہا تھا کہ غیر اخلاقی سرگرمیاں ذہنی اور جسمانی بیماریوں کی طرف لے جاتی ہیں۔حکومت ، معاشرہ اور اشخاص ،تمام پر عیاشی روکنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اگرآپ عیاشی روکنے میں ناکام ہوئے تو مہلک بیماریاں زمین پر پھیل جائیں گی اور اس سے بچا نہ جا سکے گا۔ انہوں نے کہا اور جوش اور قابل نفرت ان کے چہرے نمایا ہوگئے اور چہرہ سرخ ہوگیا ۔
حاجی محمد اشرف ایک مختصر وقت کے لئے روکے ۔ انہوں نے اس سکرائب کی طرف دیکھا اس تجزیہ کرنے کے لئے کہ وہ اپنا بیغام پہنچانے میں قابل ہوئے ہیں۔ میں نے آخری سوال کیا ، سر، آپ نے مرنے کا پیچھا کر نے والی بیماریوں کی نشاندہی کی، آپ نے وجوہات بتائیں اور اپ نے پرہیز اور علاج بیان کیا ۔ کیا آپ مزید کچھ کہنا چاہیں گے۔
حاجی اشرف : میں احتتام کرتا ہوں ۔ ہر سطح پر انصاف اور برابری ہونی چاہیے ،انفرادی سے ریاستی سطح پر ۔ معاشرہ جو ناانصافی سے گزر رہا ہو ایک صحت مند ریاست اور صحت مند لوگوں کو یقینی نہیں بنا سکتا۔ انہوں نے کہا۔ میں اس سے آگے کچھ نہیں کہہ سکتا۔